iqra taleemul quraan

Click here to edit subtitle

Blog

ahkam safer

Posted by ahmedsiddiqu266 on August 27, 2020 at 6:55 AM


پندرہ یا زیادہ دن و رات رہائش اختیار کرنے کی صورتیں مع احکام

 

شریعت مطہرہ کی رو سے ایسی جگہ جو رہائش کے قابل ہو اور مسافر وہاں پندرہ راتیں ٹھہرنے کی نیت سے رہے تو ایسا شخص مقیم بن جاتا ہے اور سفر کے احکامات اس پر لاگو نہیں ہوتے ، اس مسئلہ کی ممکنہ مختلف صورتیں مع احکام درجہ ذیل ہیں:

1۔ اگر کوئی مسافر ایک ہی جگہ پر پندرہ دن و راتیں یا زیادہ ٹھہرنے کی نیت کرے تو مقیم بن جائے گا۔ لہذا پوری نماز پڑھے گا اور روزہ بھی رکھے گا وغیرہ وغیرہ۔

2۔ دوسری صورت یہ ہے کہ دو تین مقامات پر پندرہ یا زیادہ دن و رات رہنے کا ارادہ ہے مگر کسی ایک جگہ پر بھی مکمل پندرہ دن و رات گزارنے کی نیت نہیں ہے مثلا ایک گاوں میں دس دن دوسرے میں آٹھ دن تیسرے میں بارہ دن گزارنے کا ارادہ ہے تو ایسا شخص مسافر ہی رہے گا اگرچہ مجموعی مقدار پندرہ دن و رات سے زیادہ ہے۔

3۔ تیسری صورت یہ ہے کہ ایک جگہ پر پندرہ راتیں گزارنے کی نیت ہے البتہ دن گزارنے کیلئے دوسری جگہ جاتا ہے تو اس کی تفصیل یہ ہے کہ اگر دن کی جگہ مسافت سفر پر واقع ہے تو راستہ میں سفر کی نماز پڑھے گا اور وہاں بھی دن کی نمازوں میں قصر کرے گا البتہ واپس رات کی جگہ آکر مقیم بن جائے گا ، اور اگر دن کی جگہ مسافت سفر سے کم مقدار پر واقع ہے تو دونوں جگہوں ( رات اور دن کی جگہ;) میں مقیم شمار کیا جائے گا اور پوری نمازیں پڑھے گا۔

 

�� ملخص از احکام سفر بتغیر 76

Categories: None

Post a Comment

Oops!

Oops, you forgot something.

Oops!

The words you entered did not match the given text. Please try again.

Already a member? Sign In

0 Comments