iqra taleemul quraan

Click here to edit subtitle

Blog

qamri saal ,muharamulharam

Posted by ahmedsiddiqu266 on August 27, 2020 at 7:00 AM Comments comments (0)

ماہِ محرم چوں کہ قمری سال کا پہلا مہینہ ہے اور اسی سے قمری سال کی ابتدا ہوتی ہے اس لیے قمری سال سے متعلق چند اہم باتیں ذکر کرنا مناسب معلوم ہوتا ہے، ان باتوں سے جہاں قمری سال کی قدر وقیمت معلوم ہوگی وہاں متعدد احکام بھی واضح ہوسکیں گے ان شاء اللہ۔

 

�� قمری سال کا تعلق چاند کے ساتھ ہوتا ہے:

قمری سال بارہ مہینوں پر مشتمل ہوتا ہے، اس کو قمری سال اس لیے کہا جاتا ہے کہ جن مہینوں سے یہ قمری سال بنتا ہے ان کا تعلق چاند کے ساتھ ہے، اسی وجہ سے یہ مہینے بھی قمری مہینے ہی کہلاتے ہیں جیسا کہ واضح ہے۔ اس قمری سال کو اسلامی سال بھی کہہ دیا جاتا ہے۔

 

�� قمری سال کے بارہ مہینوں کے نام:

▪مُحَرَّمُ الْحَرَام۔

▪صَفَرُ الْمُظَفَّر۔

▪رَبِیْعُ الْأَوَّل۔

▪رَبِیْعُ الثَّانِيْ۔

▪جُمَادَی الْاُوْلیٰ۔

▪جُمَادَی الثَّانِيَة۔

▪رَجَبُ الْمُرَجَّب۔

▪شَعْبَانُ الْمُعَظَّم۔

▪رَمَضَانُ الْمُبَارَک۔

▪شَوَّالُ الْمُکَرَّم۔

▪ذُو القَعْدَة۔

▪ذُو الْحَجَّة۔

 

⭕ تنبیہ: بہت سے مسلمانوں کو نہ تو قمری مہینوں کے نام یاد ہوتے ہیں اور نہ ہی ان کا صحیح تلفُّظ معلوم ہوتا ہے حتی کہ یہ بھی معلوم نہیں کہ کونسا مہینہ کب شروع ہوا اور کب ختم ہوا، یہ قابلِ اصلاح بات ہے کیوں کہ ان مہینوں سے مسلمانوں کا دینی تعلق بھی ہے اور متعدد احکام کا تعلق بھی انھی مہینوں کے ساتھ ہے، اس لیے ان بارہ مہینوں کے ناموں کودرست الفاظ اور تلفُّظ کے ساتھ یاد کرنے کی کوشش کرنی چاہیے کہ یہ مسلمانوں کا اسلامی تقاضا ہے۔

 

�� قمری سال کی بہت بڑی خوبی:

قمری یعنی اسلامی سال کی بہت بڑی خوبی یہ ہے کہ اس کے بارہ مہینے اللہ تعالیٰ نے خود ہی مقرر فرمائے ہیں، جیسا کہ اللہ تعالیٰ سورۃ التوبہ میں فرماتے ہیں:

إِنَّ عِدَّةَ الشُّهُوْرِ عِندَ اللّٰهِ اثْنَا عَشَرَ شَهْرًا فِیْ كِتٰبِ اللّٰهِ يَوْمَ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْأَرْضَ مِنْهَآ أَرْبَعَةٌ حُرُمٌ ۚ ذٰلِكَ الدِّيْنُ الۡقَيِّمُ (36)

▪ ترجمہ:

’’حقیقت یہ ہے کہ اللہ کے نزدیک مہینوں کی تعداد بارہ مہینے ہے، جو اللہ کی کتاب (یعنی لوحِ محفوظ;) کے مطابق اُس دن سے نافذ چلی آتی ہے جس دن اللہ نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیاتھا۔ ان بارہ مہینوں میں سے چار حرمت والے مہینے ہیں۔ یہی دین (کا;) سیدھا (تقاضا;) ہے۔‘‘ (آسان ترجمہ قرآن;)

اس آیت سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ قمری سال کے بارہ مہینے اللہ تعالیٰ نے خود مقرر فرمائے ہیں، جس سے اسلامی قمری سال اور اس کے مہینوں کی قدر وقیمت، برتری اور اہمیت بخوبی واضح ہوتی ہے۔

 

�� حسابات میں قمری ماہ وسال کی حیثیت اور اہمیت:

قمری سال کی فضیلت اور اہمیت سے متعلق یہ سمجھنا ضروری ہے کہ متعدد وجوہات کی وجہ سے قمری تقویم کو اہمیت، برتری اور فضیلت حاصل ہے، اس لیے مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ قمری تقویم کا اہتمام کریں، اس حوالے سے مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد شفیع صاحب رحمہ اللہ کی تفسیر ’’معارف القرآن‘‘ سے ایک آیت کی تفسیر نقل کرتے ہیں تاکہ اس کی روشنی میں یہ اہم موضوع سمجھنے میں سہولت رہے۔

☀ اللہ تعالیٰ سورتِ بقرہ آیت نمبر 189 میں بیان فرماتے ہیں کہ:

يَسْـَٔلُوْنَكَ عَنِ الْاَهِلَّةِ قُلْ هِىَ مَوَاقِيْتُ لِلنَّاسِ وَالْحَجِّ ؕ

▪ ترجمہ: ’’لوگ آپ سے نئے مہینوں کے چاند کے بارے میں پوچھتے ہیں، آپ انہیں بتا دیجیے کہ یہ لوگوں (کے مختلف معاملات کے;) اور حج کے اوقات متعین کرنے کے لیے ہیں۔‘‘ (آسان ترجمہ قرآن;)

تفسیر:

آیتِ مذکورہ میں ذکر یہ ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین نے رسول اللہ ﷺ سے ’’اَهِلَّة‘‘ یعنی شروع مہینے کے چاند کے متعلق سوال کیا کہ اس کی صورت آفتاب سے مختلف ہے کہ وہ کبھی باریک ہلالی شکل میں ہوتا ہے، پھر آہستہ آہستہ بڑھتا ہے، پھر پورا دائرہ ہوجاتا ہے،پھر اس میں تدریجی کمی اسی طرح آتی ہے، اس کی حقیقت دریافت کی یا حکمت ومصلحت کا سوال کیا؟ دونوں احتمال ہیں، مگر جو جواب دیا گیا اس میں حکمت ومصلحت کا بیان ہے، اگر سوال ہی یہ تھا کہ چاند کے گھٹنے بڑھنے میں حکمت ومصلحت کیا ہے؟ تب تو جواب اس کے مطابق ہو ہی گیا، اور اگر سوال سے اس گھٹنے بڑ ھنے کی حقیقت دریافت کرنا مقصود تھا جو صحابہ کرام کی شان سے بعید ہے تو پھر جواب بجائے حقیقت کے حکمت ومصلحت بیان کرنے سے اس امر کی طرف اشارہ ہے کہ اَجرام ِسماویہ کے حقائق دریافت کرنا انسان کے بس میں بھی نہیں اور ان کا کوئی دینی یا دنیوی کام اس حقیقت کے علم پر موقوف بھی نہیں، اس لیے حقیقت کا سوال فضول ہے، پوچھنے اور بتلانے کی بات یہ ہے کہ چاند کے اس طرح گھٹنے، بڑھنے، چھپنے اور طلوع ہونے سے ہمارے کون سے مصالح وابستہ ہیں؟ اس لیے جواب میں رسول اللہ ﷺ کو یہ ارشاد فرمایا کہ آپ ان سے کہہ دیں کہ تمہارے مصالح جو چاند سے وابستہ ہیں یہ ہیں کہ اس کے ذریعہ تمہیں اپنے معاملات اور معاہدوں کی میعاد مقرر کرنا اور حج کے ایام معلوم کرنا آسان ہوجائے گا۔

 

�� قمری اور شمسی حساب کی شرعی حیثیت:

اس آیت سے تو اتنا معلوم ہوا کہ چاند کے ذریعہ تمہیں تاریخوں اور مہینوں کا حساب معلوم ہوجائے گا جس پر تمہارے معاملات اور عبادات حج وغیرہ کی بنیاد ہے، اسی مضمون کو سورة یونس کی آیت نمبر 5 میں اس عنوان سے بیان فرمایا ہے: وَقَدَّرَهٗ مَنَازِلَ لِتَعْلَمُوْا عَدَدَ السِّـنِيْنَ وَالْحِسَابَ (یونس;)، جس سے معلوم ہوا کہ چاند کو مختلف منزلوں اور مختلف حالات سے گذارنے کا فائدہ یہ ہے کہ اس کے ذریعہ سال اور مہینوں اور تاریخوں کا حساب معلوم ہوسکے، مگر سورة بنی اسرائیل کی آیت نمبر 12 میں اس حساب کا تعلق آفتاب سے بھی بتلایا گیا ہے، وہ یہ ہے: ’’فَمَحَوْنَآ اٰيَةَ اللَّيْلِ وَجَعَلْنَآ اٰيَةَ النَّهَارِ مُبْصِرَةً لِّتَبْتَغُوْا فَضْلًا مِّنْ رَّبِّكُمْ وَلِتَعْلَمُوْا عَدَدَ السِّنِيْنَ وَالْحِسَابَ‘‘ [ترجمہ:] پھر مٹایا رات کا نمونہ، اور بنادیا دن کا نمونہ دیکھنے کو تاکہ تلاش کرو فضل اپنے رب کا اور تاکہ معلوم کرو گنتی برسوں کی اور حساب۔

اس تیسری آیت سے اگرچہ یہ ثابت ہوا کہ سال اور مہینوں وغیرہ کا حساب آفتاب سے بھی لگایا جاسکتا ہے (کما ذکرہ فی روح المعانی;)، لیکن چاند کے معاملہ میں جو الفاظ قرآن کریم نے استعمال کیے ان سے واضح اشارہ اس طرف نکلتا ہے کہ شریعت ِاسلام میں حساب چاند ہی کا متعین ہے خصوصًا اُن عبادات میں جن کا تعلق کسی خاص مہینے اور اس کی تاریخوں سے ہے جیسے: روزہ رمضان، حج کے مہینے، حج کے ایام، محرّم، شبِ برأت وغیرہ سے جو احکام متعلق ہیں؛ وہ سب رؤیتِ ہلال سے متعلق کیے گئے ہیں کیونکہ اس آیت میں ’’ھِىَ مَوَاقِيْتُ للنَّاسِ وَالْحَجِّ‘‘ فرما کر بتلا دیا کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک حساب چاند ہی کا معتبر ہے اگرچہ یہ حساب آفتاب سے بھی معلوم ہوسکتا ہے۔

شریعتِ اسلام نے چاند کے حساب کو اس لیے اختیار فرمایا کہ اس کو ہر آنکھوں والا اُفق پر دیکھ کر معلوم کرسکتا ہے، عالم، جاہل، دیہاتی، جزیروں پہاڑوں کے رہنے والے جنگلی؛ سب کو اس کا علم آسان ہے، بخلاف شمسی حساب کے کہ وہ آلاتِ رصدیہ اور قواعدِ ریاضیہ پر موقوف ہے جس کو ہر شخص آسانی سے معلوم نہیں کرسکتا، پھر عبادات کے معاملہ میں تو قمری حساب کو بطورِ فرض متعین کردیا، اور عام معاملات ، تجارت وغیرہ میں بھی اسی کو پسند کیا جو عبادت ِاسلامی کا ذریعہ ہے اور ایک طرح کا اسلامی شعار ہے، اگرچہ شمسی حساب کو بھی ناجائز قرار نہیں دیا، شرط یہ ہے کہ اس کا رواج اتنا عام نہ ہوجائے کہ لوگ قمری حساب کو بالکل بھلا دیں کیونکہ ایسا کرنے میں عبادات روزہ وحج وغیرہ میں خلل لازم آتا ہے، جیسا اس زمانے میں عام دفتروں اور کاروباری اداروں بلکہ نجی اور شخصی مکاتبات میں بھی شمسی حساب کا ایسا رواج ہوگیا ہے کہ بہت سے لوگوں کو اسلامی مہینے بھی پورے یاد نہیں رہے، یہ شرعی حیثیت کے علاوہ غیرتِ قومی وملی کا بھی دیوالیہ پن ہے، اگر دفتری معاملات میں جن کا تعلق غیر مسلموں سے بھی ہے ان میں صرف شمسی حساب رکھیں، باقی نجی خط وکتابت اور روز مرہ کی ضروریات میں قمری اسلامی تاریخوں کا استعمال کریں تو اس میں فرض کفایہ کی ادائیگی کا ثواب بھی ہوگا اور اپنا قومی شعار بھی محفوظ رہے گا۔ (معارف القرآن;)

 

❄ خلاصہ:

مذکورہ آیت کی تفسیر سے یہ بات معلوم ہوئی کہ مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اپنے حسابات اور معاملات میں قمری تقویم کی رعایت کریں بلکہ اسے غالب رکھیں، یہ فرضِ کفایہ بھی ہے، اسلامی غیرت کا تقاضا بھی ہے، اجر وثواب کا باعث بھی ہے اور ایک درجے میں شعائرِ اسلام میں سے بھی ہے، یہ متعدد وجوہات ہیں جن کی وجہ سے قمری تقویم کی رعایت اہمیت رکھتی ہے۔

ایک اور اہم وجہ جس کی وجہ سے قمری تقویم کی پاسداری کی اہمیت بڑھ جاتی ہے وہ یہ ہے کہ متعدد احکام کا تعلق قمری تقویم سے ہے، جس کی تفصیل یہ ہے:

 

�� متعدد شرعی احکام کا تعلق قمری تقویم کے ساتھ ہے:

شریعت کے متعدد احکام کا تعلق قمری تقویم یعنی اسلامی ماہ وسال کے ساتھ ہے جیسے: مناسکِ حج، ماہِ رمضان کے روزے، عشرہ ذو الحجہ، عیدین، تکبیراتِ تشریق، زکوٰۃ، قربانی، صدقۃ الفطر، شبِ برأت، پندرہ شعبان، شبِ قدر، عاشورا، بلوغت، نئے مہینے کا چاند دیکھنا اور ان جیسے دیگر احکام۔ اس لیے قمری تقویم کی رعایت اور اہتمام اہمیت کا حامل ہے خصوصًا ان شرعی احکام میں جن کا تعلق قمری تقویم کے ساتھ ہے تاکہ جب اسلامی ماہ وسال کا علم ہوگا تو ان احکامات کی پاسداری میں سہولت رہے گی۔

 

�� قمری تقویم سے ہماری غفلت اور اس کی ایک اہم مثال:

یہ حقیقت ہے کہ بہت سے لوگ قمری تقویم یعنی اسلامی ماہ وسال کی نہ تو رعایت کرتے ہیں، نہ اس کے ناموں سے واقف ہیں، نہ اس کے احکام سے واقف ہیں اور نہ اس کی ضرورت کو سمجھتے ہیں۔

قمری تقویم کی اہمیت کو ایک مثال سے سمجھانے کی کوشش کرتے ہیں:

 

�� بلوغت کے بارے میں قمری تاریخِ پیدائش نوٹ کرنےکی اہمیت:

آج ایک المیہ یہ بھی ہے کہ مسلمان والدین اپنی اولاد کی انگریزی یا شمسی تاریخِ پیدائش تو نوٹ کرتے ہیں لیکن قمری تاریخِ پیدائش کی طرف توجہ اور اہمیت ہی نہیں دیتے، اور یوں سمجھتے ہیں کہ قمری تاریخِ پیدائش نوٹ کرنے کی کوئی ضرورت ہی نہیں، آئیے اس بات کا جائزہ لیتے ہیں تاکہ حقیقت سمجھ آجائے:

�� مسئلہ:

جب لڑکے کی عمر اسلامی قمری سال کے اعتبار سے 12 سال اور لڑکی کی عمر 9 سال ہوجائے تو اس کے بعد جب بھی بلوغت کی علامات [جیسے لڑکے کو احتلام، انزال وغیرہ، اور لڑکی کو ماہواری، احتلام وغیرہ] ظاہر ہوجائیں تو یہ دونوں بالغ ہوجاتے ہیں، البتہ اگر بلوغت کی کوئی بھی علامت ظاہر نہ ہو تو پھر اسلامی قمری اعتبار سے 15 سال کی عمر میں دونوں بالغ شمار کیے جائیں گے۔

(صحیح مسلم حدیث: 4814 مع تکملۃ فتح الملہم، عالمگیریہ، ملتقی الابحر، کنز الدقائق مع البحر الرائق;)

اس سے معلوم ہوا کہ لڑکے اور لڑکی دونوں کی بلوغت میں قمری سال کس قدر اہمیت کا حامل ہے، اگر لڑکے یا لڑکی کی قمری تاریخِ پیدائش کا علم نہ ہو تو اس کی بلوغت کا فیصلہ کس قدر مشکل ہوگا؟ کیوں کہ اگر لڑکا یا لڑکی میں کوئی بلوغت کی علامت ظاہر نہ ہوئی تو پھر اس کو بالغ قرار دینے کے لیے ضروری ہے کہ یہ معلوم ہو کہ اس کی عمر قمری اعتبار سے 15 سال ہے، اسی طرح یہ بھی سمجھیے کہ لڑکی چوں کہ 9 قمری سال سے پہلے بالغ نہیں ہوسکتی اس لیے اس کو 9 قمری سال سے پہلے جو خون آئے تو اس کو ماہواری یعنی حیض نہیں کہتے بلکہ وہ استحاضہ یعنی بیماری ہے، اس کی بنا پر اس کو بالغ شمار نہیں کیا جاسکتا، تو جب اسلامی اور قمری عمر کا علم ہی نہ ہو تو یہ فیصلہ کیسے ہوگا کہ وہ خون حیض ہے یا استحاضہ؟ اور وہ بالغ شمار ہوگی یا نہیں؟؟

 

�� خلاصہ:

یقینًا یہ مثال کافی ہوگی قمری اور اسلامی ماہ وسال کی اہمیت سمجھنے کے لیے!! البتہ ماقبل میں آیت کی تفسیر میں یہ بات واضح ہوچکی ہے کہ:

’’عبادات کے معاملہ میں تو قمری حساب کو بطورِ فرض متعین کردیا، اور عام معاملات، تجارت وغیرہ میں بھی اسی کو پسند کیا جو عبادت ِاسلامی کا ذریعہ ہے اور ایک طرح کا اسلامی شعار ہے، اگرچہ شمسی حساب کو بھی ناجائز قرار نہیں دیا، شرط یہ ہے کہ اس کا رواج اتنا عام نہ ہوجائے کہ لوگ قمری حساب کو بالکل بھلا دیں کیونکہ ایسا کرنے میں عبادات روزہ وحج وغیرہ میں خلل لازم آتا ہے جیسا اس زمانے میں عام دفتروں اور کاروباری اداروں بلکہ نجی اور شخصی مکاتبات میں بھی شمسی حساب کا ایسا رواج ہوگیا ہے کہ بہت سے لوگوں کو اسلامی مہینے بھی پورے یاد نہیں رہے، یہ شرعی حیثیت کے علاوہ غیرتِ قومی وملی کا بھی دیوالیہ پن ہے، اگر دفتری معاملات میں جن کا تعلق غیر مسلموں سے بھی ہے ان میں صرف شمسی حساب رکھیں، باقی نجی خط و کتابت اور روز مرہ کی ضروریات میں قمری اسلامی تاریخوں کا استعمال کریں تو اس میں فرض کفایہ کی ادائیگی کا ثواب بھی ہوگا اور اپنا قومی شعار بھی محفوظ رہے گا۔‘‘ (معارف القرآن;)

 

�� ہجری سال کی ابتدا کہاں سے ہوئی؟

ماقبل کی تفصیل سے یہ معلوم ہوچکا ہے کہ اسلامی قمری سال اور مہینوں کا آغاز اس کائنات کے روزِ اول ہی سے ہوا، اس لیے حضرت آدم علیہ السلام جب دنیا میں تشریف لائے تو اسی وقت سے اس پر عمل ہوتا چلا آرہا ہے۔ قمری سال کے حوالے سے تو یہاں تک معاملہ یکساں رہا، البتہ سَن کی تعیین میں ہر دور کی عادت مختلف رہی ہے کہ مختلف زمانوں میں لوگ اپنے حسابات، معاملات اور واقعات کی پہچان کے لیے سہولت کی خاطر اپنی تہذ

msaael deen

Posted by ahmedsiddiqu266 on August 27, 2020 at 6:45 AM Comments comments (0)

 السلام علیکم

معزز اراکین ��

مندرجہ ذیل عنوانات پر کچھ کتابیں آپ کی خدمت میں پیش ہیں۔

پہلی فرصت میں انہیں محفوظ کرکے مطالعہ کرلیں

⬅️نئے اسلامی سال کے آغاز سے متعلق دعائیں،

⬅️محرم الحرام کی فضیلت کس وجہ سے ہے

⬅️محرم الحرام میں شادی کرنا کیسا ہے

⬅️ماہ محرم الحرام میں مروجہ بدعات و رسومات اور حلیم پکانا کیسا ہے

⬅️یزید بن معاویہ پر الزامات کی حقیقت

⬅️یزید کی شخصیت اہلسنت کی نظر میں

⬅️ گلدستہ اہلبیت رضی اللہ عنہم جمعین

⬅️عشرہ مبشرہ اور اہل بیت رسول صلی اللہ علیہ وسلم

⬅️عظمت و شان

اہل بیت کرام رضی اللہ عنہم اجمعین

⬅️اہل بیت کرام رضی اللہ عنہم اجمعین اور خاندان ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کے مابین رشتہ داریاں

⬅️ اہل بیت کرام رضی اللہ عنہم اجمعین اور خاندان عمر رضی اللہ عنہ کے مابین رشتہ داریاں

⬅️اہل بیت کرام رضی اللہ عنہم اجمعین اور خاندان عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے مابین رشتہ داریاں

⬅️سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور ان کے بیٹوں کے محبوب و پسندیدہ ترین اسمائے گرامی

⬅️سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہ کی ولادت سے شہادت تک کا یاداشتی نقشہ

⬅️حضرت حسن رضی اللہ عنہ اور حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی سیرت و منقبت

⬅️جگر گوشئہ رسول حضرت حسین رضی اللہ عنہ اور ان کے اصحاب کا واقعہ شہادت اور مسلمانوں کے لئے دعوت و فکروعمل

⬅️حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے فضائل

⬅️دشمنان امیر معاویہ کا علمی محاسبہ

⬅️حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے حق میں اہل بیت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا فیصلہ

⬅️حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے ظاہری اختلاف سے اگاہی

⬅️سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ پر اعتراضات کی حقیقت

⬅️صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے آپس میں تعلقات ، باہمی محبت اور رشتہ داریاں ❤️❤️❤️

اللہ ہمیں حق بات سننے، پڑھنے اور عمل کرنے کے ساتھ ساتھ حق بات کہنے کی توفیق عطا فرمائے۔

آمین ثمہ آمین