|
|
comments (0)
|
قبروں پر پھول کی پتیاں ڈالنا
سوال
قبروں پر پھول کی پتیاں ڈالنا جائز ہے کہ نہیں؟ براۓمہربانی قرآن وحدیث کی روشنی میں اس کی وضاحت فرمادیں!
جواب
قبر وں پر پھول ڈالنا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم،صحابہ کرام، تابعین، تبع تابعین اور ائمۂ مجتہدین سے ثابت نہیں ہے، اس لیے قبر پر پھول ڈالنا درست نہیں ہے، بلکہ پھول کے بجائے یہ رقم صدقہ وخیرات کرکے میت کو ثواب پہنچادے، یہ زیادہ بہتر ہے، تاکہ میت کو بھی فائدہ ہو اور رقم بھی ضائع نہ ہو۔
باقی حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کی جو روایت ہے کہ نبی ﷺکا دو قبروں پر گزر ہوا تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ ان دونوں مردوں کو عذاب ہورہا ہے، پھر آپ ﷺ نے کھجور کے درخت کی ایک تر شاخ لے کر اسے درمیان سے چیر کر دو حصہ کردیا، پھر ایک حصہ ایک قبر پر اور دوسرا حصہ دوسری قبر پر گاڑ دیا، لوگوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! یہ آپ نے کس مصلحت سے کیا ؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ امید ہے کہ جب تک یہ خشک نہ ہوں، ان سے عذاب ہلکا ہو جاوے۔(مشکاۃ![]()
|
|
comments (0)
|
ماہِ محرم چوں کہ قمری سال کا پہلا مہینہ ہے اور اسی سے قمری سال کی ابتدا ہوتی ہے اس لیے قمری سال سے متعلق چند اہم باتیں ذکر کرنا مناسب معلوم ہوتا ہے، ان باتوں سے جہاں قمری سال کی قدر وقیمت معلوم ہوگی وہاں متعدد احکام بھی واضح ہوسکیں گے ان شاء اللہ۔
�� قمری سال کا تعلق چاند کے ساتھ ہوتا ہے:
قمری سال بارہ مہینوں پر مشتمل ہوتا ہے، اس کو قمری سال اس لیے کہا جاتا ہے کہ جن مہینوں سے یہ قمری سال بنتا ہے ان کا تعلق چاند کے ساتھ ہے، اسی وجہ سے یہ مہینے بھی قمری مہینے ہی کہلاتے ہیں جیسا کہ واضح ہے۔ اس قمری سال کو اسلامی سال بھی کہہ دیا جاتا ہے۔
�� قمری سال کے بارہ مہینوں کے نام:
▪مُحَرَّمُ الْحَرَام۔
▪صَفَرُ الْمُظَفَّر۔
▪رَبِیْعُ الْأَوَّل۔
▪رَبِیْعُ الثَّانِيْ۔
▪جُمَادَی الْاُوْلیٰ۔
▪جُمَادَی الثَّانِيَة۔
▪رَجَبُ الْمُرَجَّب۔
▪شَعْبَانُ الْمُعَظَّم۔
▪رَمَضَانُ الْمُبَارَک۔
▪شَوَّالُ الْمُکَرَّم۔
▪ذُو القَعْدَة۔
▪ذُو الْحَجَّة۔
⭕ تنبیہ: بہت سے مسلمانوں کو نہ تو قمری مہینوں کے نام یاد ہوتے ہیں اور نہ ہی ان کا صحیح تلفُّظ معلوم ہوتا ہے حتی کہ یہ بھی معلوم نہیں کہ کونسا مہینہ کب شروع ہوا اور کب ختم ہوا، یہ قابلِ اصلاح بات ہے کیوں کہ ان مہینوں سے مسلمانوں کا دینی تعلق بھی ہے اور متعدد احکام کا تعلق بھی انھی مہینوں کے ساتھ ہے، اس لیے ان بارہ مہینوں کے ناموں کودرست الفاظ اور تلفُّظ کے ساتھ یاد کرنے کی کوشش کرنی چاہیے کہ یہ مسلمانوں کا اسلامی تقاضا ہے۔
�� قمری سال کی بہت بڑی خوبی:
قمری یعنی اسلامی سال کی بہت بڑی خوبی یہ ہے کہ اس کے بارہ مہینے اللہ تعالیٰ نے خود ہی مقرر فرمائے ہیں، جیسا کہ اللہ تعالیٰ سورۃ التوبہ میں فرماتے ہیں:
إِنَّ عِدَّةَ الشُّهُوْرِ عِندَ اللّٰهِ اثْنَا عَشَرَ شَهْرًا فِیْ كِتٰبِ اللّٰهِ يَوْمَ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْأَرْضَ مِنْهَآ أَرْبَعَةٌ حُرُمٌ ۚ ذٰلِكَ الدِّيْنُ الۡقَيِّمُ (36)
▪ ترجمہ:
’’حقیقت یہ ہے کہ اللہ کے نزدیک مہینوں کی تعداد بارہ مہینے ہے، جو اللہ کی کتاب (یعنی لوحِ محفوظ;) کے مطابق اُس دن سے نافذ چلی آتی ہے جس دن اللہ نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیاتھا۔ ان بارہ مہینوں میں سے چار حرمت والے مہینے ہیں۔ یہی دین (کا;) سیدھا (تقاضا;) ہے۔‘‘ (آسان ترجمہ قرآن;)
اس آیت سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ قمری سال کے بارہ مہینے اللہ تعالیٰ نے خود مقرر فرمائے ہیں، جس سے اسلامی قمری سال اور اس کے مہینوں کی قدر وقیمت، برتری اور اہمیت بخوبی واضح ہوتی ہے۔
�� حسابات میں قمری ماہ وسال کی حیثیت اور اہمیت:
قمری سال کی فضیلت اور اہمیت سے متعلق یہ سمجھنا ضروری ہے کہ متعدد وجوہات کی وجہ سے قمری تقویم کو اہمیت، برتری اور فضیلت حاصل ہے، اس لیے مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ قمری تقویم کا اہتمام کریں، اس حوالے سے مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد شفیع صاحب رحمہ اللہ کی تفسیر ’’معارف القرآن‘‘ سے ایک آیت کی تفسیر نقل کرتے ہیں تاکہ اس کی روشنی میں یہ اہم موضوع سمجھنے میں سہولت رہے۔
☀ اللہ تعالیٰ سورتِ بقرہ آیت نمبر 189 میں بیان فرماتے ہیں کہ:
يَسْـَٔلُوْنَكَ عَنِ الْاَهِلَّةِ قُلْ هِىَ مَوَاقِيْتُ لِلنَّاسِ وَالْحَجِّ ؕ
▪ ترجمہ: ’’لوگ آپ سے نئے مہینوں کے چاند کے بارے میں پوچھتے ہیں، آپ انہیں بتا دیجیے کہ یہ لوگوں (کے مختلف معاملات کے;) اور حج کے اوقات متعین کرنے کے لیے ہیں۔‘‘ (آسان ترجمہ قرآن;)
تفسیر:
آیتِ مذکورہ میں ذکر یہ ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین نے رسول اللہ ﷺ سے ’’اَهِلَّة‘‘ یعنی شروع مہینے کے چاند کے متعلق سوال کیا کہ اس کی صورت آفتاب سے مختلف ہے کہ وہ کبھی باریک ہلالی شکل میں ہوتا ہے، پھر آہستہ آہستہ بڑھتا ہے، پھر پورا دائرہ ہوجاتا ہے،پھر اس میں تدریجی کمی اسی طرح آتی ہے، اس کی حقیقت دریافت کی یا حکمت ومصلحت کا سوال کیا؟ دونوں احتمال ہیں، مگر جو جواب دیا گیا اس میں حکمت ومصلحت کا بیان ہے، اگر سوال ہی یہ تھا کہ چاند کے گھٹنے بڑھنے میں حکمت ومصلحت کیا ہے؟ تب تو جواب اس کے مطابق ہو ہی گیا، اور اگر سوال سے اس گھٹنے بڑ ھنے کی حقیقت دریافت کرنا مقصود تھا جو صحابہ کرام کی شان سے بعید ہے تو پھر جواب بجائے حقیقت کے حکمت ومصلحت بیان کرنے سے اس امر کی طرف اشارہ ہے کہ اَجرام ِسماویہ کے حقائق دریافت کرنا انسان کے بس میں بھی نہیں اور ان کا کوئی دینی یا دنیوی کام اس حقیقت کے علم پر موقوف بھی نہیں، اس لیے حقیقت کا سوال فضول ہے، پوچھنے اور بتلانے کی بات یہ ہے کہ چاند کے اس طرح گھٹنے، بڑھنے، چھپنے اور طلوع ہونے سے ہمارے کون سے مصالح وابستہ ہیں؟ اس لیے جواب میں رسول اللہ ﷺ کو یہ ارشاد فرمایا کہ آپ ان سے کہہ دیں کہ تمہارے مصالح جو چاند سے وابستہ ہیں یہ ہیں کہ اس کے ذریعہ تمہیں اپنے معاملات اور معاہدوں کی میعاد مقرر کرنا اور حج کے ایام معلوم کرنا آسان ہوجائے گا۔
�� قمری اور شمسی حساب کی شرعی حیثیت:
اس آیت سے تو اتنا معلوم ہوا کہ چاند کے ذریعہ تمہیں تاریخوں اور مہینوں کا حساب معلوم ہوجائے گا جس پر تمہارے معاملات اور عبادات حج وغیرہ کی بنیاد ہے، اسی مضمون کو سورة یونس کی آیت نمبر 5 میں اس عنوان سے بیان فرمایا ہے: وَقَدَّرَهٗ مَنَازِلَ لِتَعْلَمُوْا عَدَدَ السِّـنِيْنَ وَالْحِسَابَ (یونس;)، جس سے معلوم ہوا کہ چاند کو مختلف منزلوں اور مختلف حالات سے گذارنے کا فائدہ یہ ہے کہ اس کے ذریعہ سال اور مہینوں اور تاریخوں کا حساب معلوم ہوسکے، مگر سورة بنی اسرائیل کی آیت نمبر 12 میں اس حساب کا تعلق آفتاب سے بھی بتلایا گیا ہے، وہ یہ ہے: ’’فَمَحَوْنَآ اٰيَةَ اللَّيْلِ وَجَعَلْنَآ اٰيَةَ النَّهَارِ مُبْصِرَةً لِّتَبْتَغُوْا فَضْلًا مِّنْ رَّبِّكُمْ وَلِتَعْلَمُوْا عَدَدَ السِّنِيْنَ وَالْحِسَابَ‘‘ [ترجمہ:] پھر مٹایا رات کا نمونہ، اور بنادیا دن کا نمونہ دیکھنے کو تاکہ تلاش کرو فضل اپنے رب کا اور تاکہ معلوم کرو گنتی برسوں کی اور حساب۔
اس تیسری آیت سے اگرچہ یہ ثابت ہوا کہ سال اور مہینوں وغیرہ کا حساب آفتاب سے بھی لگایا جاسکتا ہے (کما ذکرہ فی روح المعانی;)، لیکن چاند کے معاملہ میں جو الفاظ قرآن کریم نے استعمال کیے ان سے واضح اشارہ اس طرف نکلتا ہے کہ شریعت ِاسلام میں حساب چاند ہی کا متعین ہے خصوصًا اُن عبادات میں جن کا تعلق کسی خاص مہینے اور اس کی تاریخوں سے ہے جیسے: روزہ رمضان، حج کے مہینے، حج کے ایام، محرّم، شبِ برأت وغیرہ سے جو احکام متعلق ہیں؛ وہ سب رؤیتِ ہلال سے متعلق کیے گئے ہیں کیونکہ اس آیت میں ’’ھِىَ مَوَاقِيْتُ للنَّاسِ وَالْحَجِّ‘‘ فرما کر بتلا دیا کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک حساب چاند ہی کا معتبر ہے اگرچہ یہ حساب آفتاب سے بھی معلوم ہوسکتا ہے۔
شریعتِ اسلام نے چاند کے حساب کو اس لیے اختیار فرمایا کہ اس کو ہر آنکھوں والا اُفق پر دیکھ کر معلوم کرسکتا ہے، عالم، جاہل، دیہاتی، جزیروں پہاڑوں کے رہنے والے جنگلی؛ سب کو اس کا علم آسان ہے، بخلاف شمسی حساب کے کہ وہ آلاتِ رصدیہ اور قواعدِ ریاضیہ پر موقوف ہے جس کو ہر شخص آسانی سے معلوم نہیں کرسکتا، پھر عبادات کے معاملہ میں تو قمری حساب کو بطورِ فرض متعین کردیا، اور عام معاملات ، تجارت وغیرہ میں بھی اسی کو پسند کیا جو عبادت ِاسلامی کا ذریعہ ہے اور ایک طرح کا اسلامی شعار ہے، اگرچہ شمسی حساب کو بھی ناجائز قرار نہیں دیا، شرط یہ ہے کہ اس کا رواج اتنا عام نہ ہوجائے کہ لوگ قمری حساب کو بالکل بھلا دیں کیونکہ ایسا کرنے میں عبادات روزہ وحج وغیرہ میں خلل لازم آتا ہے، جیسا اس زمانے میں عام دفتروں اور کاروباری اداروں بلکہ نجی اور شخصی مکاتبات میں بھی شمسی حساب کا ایسا رواج ہوگیا ہے کہ بہت سے لوگوں کو اسلامی مہینے بھی پورے یاد نہیں رہے، یہ شرعی حیثیت کے علاوہ غیرتِ قومی وملی کا بھی دیوالیہ پن ہے، اگر دفتری معاملات میں جن کا تعلق غیر مسلموں سے بھی ہے ان میں صرف شمسی حساب رکھیں، باقی نجی خط وکتابت اور روز مرہ کی ضروریات میں قمری اسلامی تاریخوں کا استعمال کریں تو اس میں فرض کفایہ کی ادائیگی کا ثواب بھی ہوگا اور اپنا قومی شعار بھی محفوظ رہے گا۔ (معارف القرآن;)
❄ خلاصہ:
مذکورہ آیت کی تفسیر سے یہ بات معلوم ہوئی کہ مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اپنے حسابات اور معاملات میں قمری تقویم کی رعایت کریں بلکہ اسے غالب رکھیں، یہ فرضِ کفایہ بھی ہے، اسلامی غیرت کا تقاضا بھی ہے، اجر وثواب کا باعث بھی ہے اور ایک درجے میں شعائرِ اسلام میں سے بھی ہے، یہ متعدد وجوہات ہیں جن کی وجہ سے قمری تقویم کی رعایت اہمیت رکھتی ہے۔
ایک اور اہم وجہ جس کی وجہ سے قمری تقویم کی پاسداری کی اہمیت بڑھ جاتی ہے وہ یہ ہے کہ متعدد احکام کا تعلق قمری تقویم سے ہے، جس کی تفصیل یہ ہے:
�� متعدد شرعی احکام کا تعلق قمری تقویم کے ساتھ ہے:
شریعت کے متعدد احکام کا تعلق قمری تقویم یعنی اسلامی ماہ وسال کے ساتھ ہے جیسے: مناسکِ حج، ماہِ رمضان کے روزے، عشرہ ذو الحجہ، عیدین، تکبیراتِ تشریق، زکوٰۃ، قربانی، صدقۃ الفطر، شبِ برأت، پندرہ شعبان، شبِ قدر، عاشورا، بلوغت، نئے مہینے کا چاند دیکھنا اور ان جیسے دیگر احکام۔ اس لیے قمری تقویم کی رعایت اور اہتمام اہمیت کا حامل ہے خصوصًا ان شرعی احکام میں جن کا تعلق قمری تقویم کے ساتھ ہے تاکہ جب اسلامی ماہ وسال کا علم ہوگا تو ان احکامات کی پاسداری میں سہولت رہے گی۔
�� قمری تقویم سے ہماری غفلت اور اس کی ایک اہم مثال:
یہ حقیقت ہے کہ بہت سے لوگ قمری تقویم یعنی اسلامی ماہ وسال کی نہ تو رعایت کرتے ہیں، نہ اس کے ناموں سے واقف ہیں، نہ اس کے احکام سے واقف ہیں اور نہ اس کی ضرورت کو سمجھتے ہیں۔
قمری تقویم کی اہمیت کو ایک مثال سے سمجھانے کی کوشش کرتے ہیں:
�� بلوغت کے بارے میں قمری تاریخِ پیدائش نوٹ کرنےکی اہمیت:
آج ایک المیہ یہ بھی ہے کہ مسلمان والدین اپنی اولاد کی انگریزی یا شمسی تاریخِ پیدائش تو نوٹ کرتے ہیں لیکن قمری تاریخِ پیدائش کی طرف توجہ اور اہمیت ہی نہیں دیتے، اور یوں سمجھتے ہیں کہ قمری تاریخِ پیدائش نوٹ کرنے کی کوئی ضرورت ہی نہیں، آئیے اس بات کا جائزہ لیتے ہیں تاکہ حقیقت سمجھ آجائے:
�� مسئلہ:
جب لڑکے کی عمر اسلامی قمری سال کے اعتبار سے 12 سال اور لڑکی کی عمر 9 سال ہوجائے تو اس کے بعد جب بھی بلوغت کی علامات [جیسے لڑکے کو احتلام، انزال وغیرہ، اور لڑکی کو ماہواری، احتلام وغیرہ] ظاہر ہوجائیں تو یہ دونوں بالغ ہوجاتے ہیں، البتہ اگر بلوغت کی کوئی بھی علامت ظاہر نہ ہو تو پھر اسلامی قمری اعتبار سے 15 سال کی عمر میں دونوں بالغ شمار کیے جائیں گے۔
(صحیح مسلم حدیث: 4814 مع تکملۃ فتح الملہم، عالمگیریہ، ملتقی الابحر، کنز الدقائق مع البحر الرائق;)
اس سے معلوم ہوا کہ لڑکے اور لڑکی دونوں کی بلوغت میں قمری سال کس قدر اہمیت کا حامل ہے، اگر لڑکے یا لڑکی کی قمری تاریخِ پیدائش کا علم نہ ہو تو اس کی بلوغت کا فیصلہ کس قدر مشکل ہوگا؟ کیوں کہ اگر لڑکا یا لڑکی میں کوئی بلوغت کی علامت ظاہر نہ ہوئی تو پھر اس کو بالغ قرار دینے کے لیے ضروری ہے کہ یہ معلوم ہو کہ اس کی عمر قمری اعتبار سے 15 سال ہے، اسی طرح یہ بھی سمجھیے کہ لڑکی چوں کہ 9 قمری سال سے پہلے بالغ نہیں ہوسکتی اس لیے اس کو 9 قمری سال سے پہلے جو خون آئے تو اس کو ماہواری یعنی حیض نہیں کہتے بلکہ وہ استحاضہ یعنی بیماری ہے، اس کی بنا پر اس کو بالغ شمار نہیں کیا جاسکتا، تو جب اسلامی اور قمری عمر کا علم ہی نہ ہو تو یہ فیصلہ کیسے ہوگا کہ وہ خون حیض ہے یا استحاضہ؟ اور وہ بالغ شمار ہوگی یا نہیں؟؟
�� خلاصہ:
یقینًا یہ مثال کافی ہوگی قمری اور اسلامی ماہ وسال کی اہمیت سمجھنے کے لیے!! البتہ ماقبل میں آیت کی تفسیر میں یہ بات واضح ہوچکی ہے کہ:
’’عبادات کے معاملہ میں تو قمری حساب کو بطورِ فرض متعین کردیا، اور عام معاملات، تجارت وغیرہ میں بھی اسی کو پسند کیا جو عبادت ِاسلامی کا ذریعہ ہے اور ایک طرح کا اسلامی شعار ہے، اگرچہ شمسی حساب کو بھی ناجائز قرار نہیں دیا، شرط یہ ہے کہ اس کا رواج اتنا عام نہ ہوجائے کہ لوگ قمری حساب کو بالکل بھلا دیں کیونکہ ایسا کرنے میں عبادات روزہ وحج وغیرہ میں خلل لازم آتا ہے جیسا اس زمانے میں عام دفتروں اور کاروباری اداروں بلکہ نجی اور شخصی مکاتبات میں بھی شمسی حساب کا ایسا رواج ہوگیا ہے کہ بہت سے لوگوں کو اسلامی مہینے بھی پورے یاد نہیں رہے، یہ شرعی حیثیت کے علاوہ غیرتِ قومی وملی کا بھی دیوالیہ پن ہے، اگر دفتری معاملات میں جن کا تعلق غیر مسلموں سے بھی ہے ان میں صرف شمسی حساب رکھیں، باقی نجی خط و کتابت اور روز مرہ کی ضروریات میں قمری اسلامی تاریخوں کا استعمال کریں تو اس میں فرض کفایہ کی ادائیگی کا ثواب بھی ہوگا اور اپنا قومی شعار بھی محفوظ رہے گا۔‘‘ (معارف القرآن;)
�� ہجری سال کی ابتدا کہاں سے ہوئی؟
ماقبل کی تفصیل سے یہ معلوم ہوچکا ہے کہ اسلامی قمری سال اور مہینوں کا آغاز اس کائنات کے روزِ اول ہی سے ہوا، اس لیے حضرت آدم علیہ السلام جب دنیا میں تشریف لائے تو اسی وقت سے اس پر عمل ہوتا چلا آرہا ہے۔ قمری سال کے حوالے سے تو یہاں تک معاملہ یکساں رہا، البتہ سَن کی تعیین میں ہر دور کی عادت مختلف رہی ہے کہ مختلف زمانوں میں لوگ اپنے حسابات، معاملات اور واقعات کی پہچان کے لیے سہولت کی خاطر اپنی تہذ
|
|
comments (0)
|
پندرہ یا زیادہ دن و رات رہائش اختیار کرنے کی صورتیں مع احکام
شریعت مطہرہ کی رو سے ایسی جگہ جو رہائش کے قابل ہو اور مسافر وہاں پندرہ راتیں ٹھہرنے کی نیت سے رہے تو ایسا شخص مقیم بن جاتا ہے اور سفر کے احکامات اس پر لاگو نہیں ہوتے ، اس مسئلہ کی ممکنہ مختلف صورتیں مع احکام درجہ ذیل ہیں:
1۔ اگر کوئی مسافر ایک ہی جگہ پر پندرہ دن و راتیں یا زیادہ ٹھہرنے کی نیت کرے تو مقیم بن جائے گا۔ لہذا پوری نماز پڑھے گا اور روزہ بھی رکھے گا وغیرہ وغیرہ۔
2۔ دوسری صورت یہ ہے کہ دو تین مقامات پر پندرہ یا زیادہ دن و رات رہنے کا ارادہ ہے مگر کسی ایک جگہ پر بھی مکمل پندرہ دن و رات گزارنے کی نیت نہیں ہے مثلا ایک گاوں میں دس دن دوسرے میں آٹھ دن تیسرے میں بارہ دن گزارنے کا ارادہ ہے تو ایسا شخص مسافر ہی رہے گا اگرچہ مجموعی مقدار پندرہ دن و رات سے زیادہ ہے۔
3۔ تیسری صورت یہ ہے کہ ایک جگہ پر پندرہ راتیں گزارنے کی نیت ہے البتہ دن گزارنے کیلئے دوسری جگہ جاتا ہے تو اس کی تفصیل یہ ہے کہ اگر دن کی جگہ مسافت سفر پر واقع ہے تو راستہ میں سفر کی نماز پڑھے گا اور وہاں بھی دن کی نمازوں میں قصر کرے گا البتہ واپس رات کی جگہ آکر مقیم بن جائے گا ، اور اگر دن کی جگہ مسافت سفر سے کم مقدار پر واقع ہے تو دونوں جگہوں ( رات اور دن کی جگہ
میں مقیم شمار کیا جائے گا اور پوری نمازیں پڑھے گا۔
�� ملخص از احکام سفر بتغیر 76
|
|
comments (0)
|
ماہِ محرم کے روزوں کی فضیلت:
محرم قمری اسلامی سال کا پہلا مہینہ ہے، اسی سے قمری اسلامی سال کی ابتدا ہوتی ہے، شریعت کی نگاہ میں اس مہینے کو بھی بڑی حُرمت، عظمت، فضیلت اور اہمیت حاصل ہے، اسی وجہ سے اس ماہِ محرم میں عبادات کی ادائیگی بھی بڑی فضیلت اور اہمیت رکھتی ہے۔ اس ماہ کی عبادات میں سے ایک اہم عبادت روزہ بھی ہے کہ اس ماہِ محرم میں روزے رکھنے کی بھی فضیلت ہے، ہر دن کے روزے کی فضیلت ہے، جس کی تفصیل درج ذیل ہے:
ماہِ محرّم حرمت اور عظمت والا مہینہ ہے:
ماہِ محرم اُن چار بابرکت مہینوں میں سے ہے جن کو اللہ تعالیٰ نے یہ کائنات بناتے وقت ہی سے بڑی عزت، احترام، فضیلت اور اہمیت عطا فرمائی ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ سورۃ التوبہ میں فرماتے ہیں:
إِنَّ عِدَّةَ الشُّهُورِ عِندَ اللّٰهِ اثۡنَا عَشَرَ شَهۡرًا فِي كِتٰبِ اللّٰهِ يَوۡمَ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالۡأَرۡضَ مِنۡهَآ أَرۡبَعَةٌ حُرُمٌ ۚذٰلِكَ الدِّينُ الۡقَيِّمُۚ (36)
▪ ترجمہ:
’’حقیقت یہ ہے کہ اللہ کے نزدیک مہینوں کی تعداد بارہ مہینے ہے، جو اللہ کی کتاب (یعنی لوحِ محفوظ) کے مطابق اُس دن سے نافذ چلی آتی ہے جس دن اللہ نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا تھا۔ ان بارہ مہینوں میں سے چار حرمت والے مہینے ہیں۔ یہی دین (کا) سیدھا (تقاضا) ہے۔‘‘ (آسان ترجمہ قرآن)
▪ اس آیت مبارکہ سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ قمری اسلامی سال کے بارہ مہینے اللہ تعالیٰ نے خود مقرر فرمائے ہیں، جس سے قمری اسلامی سال اور اس کے مہینوں کی قدر وقیمت اور اہمیت بخوبی واضح ہوتی ہے۔ اسی طرح اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان بارہ مہینوں میں سے چار مہینےحرمت، عظمت اور احترام والے ہیں، ان کو ’’اَشْہُرُ الْحُرُم‘‘ کہا جاتا ہے، یہ مضمون متعدد احادیث میں آیا ہے جن سے ان چار مہینوں کی تعیین بھی واضح ہوجاتی ہے، جیسا کہ صحیح بخاری میں ہے کہ حضرت ابو بکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور اقدس ﷺ نے حجۃ الوداع کے موقع پر ارشاد فرمایا کہ: ’’زمانہ اب اپنی اُسی ہیئت اور شکل میں واپس آگیا ہے جو اُس وقت تھی جب اللہ نے آسمان اور زمین کو پیدا فرمایا تھا (اس ارشاد سے مشرکین کے ایک غلط نظریے اور طرزِ عمل کی تردید مقصود ہے جس کا ذکر اسی سورتِ توبہ آیت نمبر 37 میں موجود ہے۔)، سال بارہ مہینوں کا ہوتا ہے، ان میں سے چار مہینے حُرمت (، عظمت اور احترام) والے ہیں، تین تو مسلسل ہیں یعنی: ذُوالقعدہ، ذُوالحجہ اور مُحرم، اور چوتھا مہینہ رجب کا ہے جو کہ جُمادی الثانیہ اور شعبان کے درمیان ہے۔‘‘
3197- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ: حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنِ ابْنِ أَبِي بَكْرَةَ عَنْ أَبِي بَكْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: «اَلزَّمَانُ قَدِ اسْتَدَارَ كَهَيْئَتِهِ يَوْمَ خَلَقَ اللهُ السَّمٰوَاتِ وَالْأَرْضَ، السَّنَةُ اثْنَا عَشَرَ شَهْرًا، مِنْهَا: أَرْبَعَةٌ حُرُمٌ، ثَلَاثَةٌ مُتَوَالِيَاتٌ: ذُو الْقَعْدَةِ وَذُو الْحِجَّةِ وَالْمُحَرَّمُ، وَرَجَبُ مُضَرَ الَّذِي بَيْنَ جُمَادَى وَشَعْبَانَ».
’’اَشْہُرُ الْحُرُم‘‘ کی فضیلت کا نتیجہ اور اس کا تقاضا:
ان چارمہینوں (یعنی ذُوالقعدہ، ذُوالحجہ، مُحرم اور رجب)کی عزت وعظمت اور احترام کی بدولت ان میں ادا کی جانے والی عبادات کے اجر وثواب میں اضافہ ہوتا ہےجبکہ گناہوں کے وبال اور عذاب میں بھی زیادتی ہوتی ہے۔ اس کا تقاضا یہ ہے کہ ان مہینوں میں عبادات کی ادائیگی اور گناہوں سے بچنےکا بخوبی اہتمام کرنا چاہیے۔ حضرات اہلِ علم فرماتے ہیں کہ جو شخص ان چار مہینوں میں عبادت کا اہتمام کرتا ہے اس کو سال کے باقی مہینوں میں بھی عبادات کی توفیق ہوجاتی ہے، اور جو شخص ان مہینوں میں گناہوں سے بچنے کی بھرپور کوشش کرتا ہے تو سال کے باقی مہینوں میں بھی اسے گناہوں سے بچنے کی توفیق ہوتی ہے۔
(احکام القرآن للجصاص سورۃ التوبہ آیت: 36، معارف القرآن سورۃ التوبہ آیت: 36)
ماہِ محرّم کی حرمت کا تقاضا:
چوں کہ ماہِ محرم بھی ان چار مبارک مہینوں میں سے ہے، اس لیے اس میں بھی عبادات کی ادائیگی اور گناہوں سے اجتناب بڑی اہمیت رکھتا ہے، چوں کہ روزہ بھی ایک اہم عبادت ہے اس لیے اس سے ماہِ محرم کے
پورے مہینے میں روزے رکھنے کی فضیلت بخوبی ثابت ہوجاتی ہے۔
ماہِ رمضان کے بعد سب سے افضل روزے ماہِ محرم کے ہیں:
احادیث ِمبارکہ میں خصوصی طور پر محرم کے روزوں کی فضیلت بھی بیان کی گئی ہے جیسا کہ صحیح مسلم کی حدیث ہے کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور اقدس ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ: ’’رمضان کے بعد سب سے افضل روزے محرم کے ہیں، اور فرض نماز کے بعد سب سے افضل نماز تہجد کی ہے۔‘‘
2812: حَدَّثَنِى قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ أَبِى بِشْرٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحِمْيَرِىِّ، عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ رضى الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ: «أَفْضَلُ الصِّيَامِ بَعْدَ رَمَضَانَ شَهْرُ اللهِ الْمُحَرَّمُ، وَأَفْضَلُ الصَّلَاةِ بَعْدَ الْفَرِيضَةِ صَلَاةُ اللَّيْلِ».
یومِ عاشورا کے روزے کی فضیلت:
ماقبل کی تفصیل سے معلوم ہوا کہ ماہِ محرم کے پورے مہینے کے روزوں کی بڑی فضیلت ہے، البتہ اس ماہ میں خصوصیت کے ساتھ عاشورا یعنی محرم کی دسویں تاریخ کے روزے کو بڑی فضیلت حاصل ہے کہ اس دن کا روزہ مہینے کے باقی ایام کے روزوں سے افضل ہے، روایات ملاحظہ فرمائیں:
1⃣ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ حضور اقدس ﷺ عاشورا کے دن کے روزے اور ماہِ رمضان کے روزوں کو دیگر ایام پر فضیلت دیتے تھے۔
☀ صحیح بخاری میں ہے:
2006: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: مَا رَأَيْتُ النَّبِيَّ ﷺ يَتَحَرَّى صِيَامَ يَوْمٍ فَضَّلَهُ عَلَى غَيْرِهِ إِلَّا هَذَا الْيَوْمَ يَوْمَ عَاشُورَاءَ وَهَذَا الشَّهْرَ يَعْنِي شَهْرَ رَمَضَانَ.
2️⃣ حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور اقدس ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ: ’’عاشورا کے دن روزہ رکھنے سے پچھلے ایک سال کے (صغیرہ) گناہ معاف ہوجاتے ہیں۔ ‘‘
☀ صحیح مسلم میں ہے:
2803: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِىُّ وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ جَمِيعًا عَنْ حَمَّادٍ -قَالَ يَحْيَى أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ- عَنْ غَيْلانَ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَعْبَدٍ الزِّمَّانِىِّ عَنْ أَبِى قَتَادَةَ .... «صِيَامُ يَوْمِ عَرَفَةَ أَحْتَسِبُ عَلَى اللهِ أَنْ يُكَفِّرَ السَّنَةَ الَّتِى قَبْلَهُ وَالسَّنَةَ الَّتِى بَعْدَهُ، وَصِيَامُ يَوْمِ عَاشُورَاءَ أَحْتَسِبُ عَلَى اللهِ أَنْ يُكَفِّرَ السَّنَةَ الَّتِى قَبْلَهُ».
یومِ عاشورا کے روزے کا تاریخی پہلو:
حدیث شریف سے معلوم ہوتا ہے کہ زمانہ جاہلیت میں قریش عاشورا کا روزہ رکھتے تھے، رمضان کے روزے فرض ہونے سے پہلے حضور اقدس ﷺ مکہ میں عاشورا کا روزہ رکھتے تھے، مدینہ آنے کے بعد حضور اقدس ﷺ نے دیکھا کہ یہود اس دن روزہ رکھتے ہیں، تو حضور اقدس ﷺ نے ان سے اس کی وجہ پوچھی، تو یہود نے کہا کہ یہ عاشورا تو عظیم الشان دن ہے، اس دن اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام اور ان کی قوم کو نجات دی تھی، اور فرعون کو اپنی قوم سمیت غرق کردیا تھا، تو حضرت موسیٰ علیہ السلام نے شکر کے طور پر اس دن روزہ رکھا، اس لیے ہم بھی روزہ رکھتے ہیں، یہ سن کر حضور اقدس ﷺ نے فرمایا کہ: ’’ہم حضرت موسی علیہ السلام کے تم سے زیادہ حق دار ہیں۔‘‘
☀ صحیح مسلم میں ہے:
2714: عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رضى الله عنهما: أَنَّ رَسُولَ اللهِ ﷺ قَدِمَ الْمَدِينَةَ فَوَجَدَ الْيَهُودَ صِيَامًا يَوْمَ عَاشُورَاءَ، فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللهِ ﷺ «مَا هَذَا الْيَوْمُ الَّذِى تَصُومُونَهُ؟» فَقَالُوا: هَذَا يَوْمٌ عَظِيمٌ، أَنْجَى اللهُ فِيهِ مُوسَى وَقَوْمَهُ، وَغَرَّقَ فِرْعَوْنَ وَقَوْمَهُ، فَصَامَهُ مُوسَى شُكْرًا، فَنَحْنُ نَصُومُهُ. فَقَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ: «فَنَحْنُ أَحَقُّ وَأَوْلَى بِمُوسَى مِنْكُمْ»، فَصَامَهُ رَسُولُ اللهِ ﷺ، وَأَمَرَ بِصِيَامِهِ.
چنانچہ حضور اقدس ﷺ نے عاشورا کا روزہ رکھا اور دوسروں کو بھی روزہ رکھنے کا حکم دیا، (اسی سے
بعض اہلِ علم فرماتے ہیں کہ رمضان کے روزے فرض ہونے سے پہلے عاشورا کا روزہ فرض تھا۔) پھر جب رمضان کے روزے فرض ہوئے تو حضور اقدس ﷺ نے فرمایا کہ: ’’عاشورا کا روزہ رکھنے سے متعلق ہر ایک کو اختیار ہے، کوئی رکھنا چاہے تو رکھ لے اور نہ رکھنا چاہے تو نہ رکھے۔‘‘ اس سے عاشورا کے روزے کی فرضیت تو منسوخ ہوگئی البتہ اس کا مستحب ہونا برقرار رہا۔
☀ صحیح بخاری کی حدیث ہے کہ:
1592: عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَانُوا يَصُومُونَ عَاشُورَاءَ قَبْلَ أَنْ يُفْرَضَ رَمَضَانُ، وَكَانَ يَوْمًا تُسْتَرُ فِيهِ الْكَعْبَةُ، فَلَمَّا فَرَضَ اللهُ رَمَضَانَ قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ: «مَنْ شَاءَ أَنْ يَصُومَهُ فَلْيَصُمْهُ، وَمَنْ شَاءَ أَنْ يَتْرُكَهُ فَلْيَتْرُكْهُ».
2002: عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَ يَوْمُ عَاشُورَاءَ تَصُومُهُ قُرَيْشٌ فِي الْجَاهِلِيَّةِ وَكَانَ رَسُولُ اللهِ ﷺ يَصُومُهُ، فَلَمَّا قَدِمَ الْمَدِينَةَ صَامَهُ وَأَمَرَ بِصِيَامِهِ، فَلَمَّا فُرِضَ رَمَضَانُ تَرَكَ يَوْمَ عَاشُورَاءَ، فَمَنْ شَاءَ صَامَهُ، وَمَنْ شَاءَ تَرَكَهُ.
یومِ عاشورا کے روزے کے ساتھ ایک اور روزہ ملانے کی حقیقت اور حکم:
حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ حضور اقدس ﷺ نےجب عاشورا کا روزہ رکھا اور دوسروں کو بھی روزہ رکھنے کا حکم دیا تو صحابہ کرام نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول! یہود ونصاریٰ تو اس دن کی تعظیم کرتے ہیں، تو حضور اقدس ﷺ نے فرمایا کہ:’’ان شاء اللہ اگلے سال ہم نو تاریخ کا روزہ بھی رکھیں گے۔‘‘ لیکن اگلا محرم آنے سے پہلے ہی حضور اقدس ﷺ وصال فرما گئے۔
☀ صحیح مسلم میں ہے:
2722: وَحَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِىٍّ الْحُلْوَانِىُّ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِى مَرْيَمَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ: حَدَّثَنِى إِسْمَاعِيلُ بْنُ أُمَيَّةَ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا غَطَفَانَ بْنَ طَرِيفٍ الْمُرِّىَّ يَقُولُ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ عَبَّاسٍ رضى الله عنهما يَقُولُ: حِينَ صَامَ رَسُولُ اللهِ ﷺ يَوْمَ عَاشُورَاءَ وَأَمَرَ بِصِيَامِهِ قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ: إِنَّهُ يَوْمٌ تُعَظِّمُهُ الْيَهُودُ وَالنَّصَارَى، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ: «فَإِذَا كَانَ الْعَامُ الْمُقْبِلُ -إِنْ شَاءَ اللهُ- صُمْنَا الْيَوْمَ التَّاسِعَ». قَالَ فَلَمْ يَأْتِ الْعَامُ الْمُقْبِلُ حَتَّى تُوُفِّىَ رَسُولُ اللهِ ﷺ.
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ حضور اقدس ﷺ نے یہود ونصاریٰ کی مشابہت سے بچنے کے لیے نو محرم کا روزہ رکھنے کا بھی حکم فرمایا، لیکن اگلا محرم آنے سے پہلے ہی ربیع الاوّل میں انتقال فرماگئے۔ اس لیے اس حدیث کی رو سے عاشورا کے روزے کے ساتھ 9 یا 11 تاریخ کو ملا کر دو روزے رکھنے چاہیے، جیسا کہ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی حدیث ہے کہ:
☀ مسند احمد میں ہے:
2154- قَالَ هُشَيْمٌ أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي لَيْلَى عَنْ دَاوُدَ بْنِ عَلِيٍّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ: «صُومُوا يَوْمَ عَاشُورَاءَ، وَخَالِفُوا فِيهِ الْيَهُودَ، صُومُوا قَبْلَهُ يَوْمًا أَوْ بَعْدَهُ يَوْمًا».
☀ مصنف عبد الرزاق میں ہے:
7839- أخبرنا عبد الرزاق قال: أخبرنا بن جريج قال: أخبرني عطاء أنه سمع ابن عباس يقول في يوم عاشوراء: خالفوا اليهود، وصوموا التاسع والعاشر.
☀ اسی طرح شعب الایمان میں یہ حدیث ہے کہ:
3510- أخبرنا ابو الحسين بن الفضل: نا عبد الله بن جعفر: نا يعقوب بن سفيان: حدثني الحميدي: نا سفيان عن بن أبي ليلى، عن داود بن علي، عن أبيه، عن جده: أن رسول الله ﷺ قال: «لئن بقيت لأمرت بصيام يوم قبله أو بعده يوم عاشوراء».
ان احادیث مبارکہ اور شرعی دلائل کی روشنی میں حضرات فقہاء کرام فرماتے ہیں کہ یومِ عاشورا کا تنہا ایک روزہ رکھنا مکروہِ تنزیہی ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ مستحب اور بہتر یہی ہے کہ عاشورا کے ساتھ ایک اور روزہ نویں یا گیارہویں تاریخ کا ملا کر دو روزے رکھے جائیں اور یہی حضور اقدس ﷺ کی خواہش کے عین مطابق ہے۔
☀ جیسا کہ فتاویٰ شامی میں ہے:
والظاهر أن صوم عاشوراء من القسم الثاني بل سماه في «الخانية» مستحبًّا فقال: ويستحب أن يصوم يوم عاشوراء بصوم يوم قبله أو يوم بعده؛ ليكون مخالفا لأهل الكتاب، ونحوه في «البدائع»، بل مقتضى ما ورد من أن صومه كفارة للسنة الماضية وصوم عرفة كفارة للماضية والمستقبلة كون صوم عرفة آكد منه، وإلا لزم كون المستحب أفضل من السنة وهو خلاف الأصل. تأمل ....... (وتنزيها كعاشوراء وحده) أي منفردا عن التاسع أو عن الحادي عشر. «إمداد
|
|
comments (0)
|
السلام علیکم
معزز اراکین ��
مندرجہ ذیل عنوانات پر کچھ کتابیں آپ کی خدمت میں پیش ہیں۔
پہلی فرصت میں انہیں محفوظ کرکے مطالعہ کرلیں
⬅️نئے اسلامی سال کے آغاز سے متعلق دعائیں،
⬅️محرم الحرام کی فضیلت کس وجہ سے ہے
⬅️محرم الحرام میں شادی کرنا کیسا ہے
⬅️ماہ محرم الحرام میں مروجہ بدعات و رسومات اور حلیم پکانا کیسا ہے
⬅️یزید بن معاویہ پر الزامات کی حقیقت
⬅️یزید کی شخصیت اہلسنت کی نظر میں
⬅️ گلدستہ اہلبیت رضی اللہ عنہم جمعین
⬅️عشرہ مبشرہ اور اہل بیت رسول صلی اللہ علیہ وسلم
⬅️عظمت و شان
اہل بیت کرام رضی اللہ عنہم اجمعین
⬅️اہل بیت کرام رضی اللہ عنہم اجمعین اور خاندان ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کے مابین رشتہ داریاں
⬅️ اہل بیت کرام رضی اللہ عنہم اجمعین اور خاندان عمر رضی اللہ عنہ کے مابین رشتہ داریاں
⬅️اہل بیت کرام رضی اللہ عنہم اجمعین اور خاندان عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے مابین رشتہ داریاں
⬅️سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور ان کے بیٹوں کے محبوب و پسندیدہ ترین اسمائے گرامی
⬅️سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہ کی ولادت سے شہادت تک کا یاداشتی نقشہ
⬅️حضرت حسن رضی اللہ عنہ اور حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی سیرت و منقبت
⬅️جگر گوشئہ رسول حضرت حسین رضی اللہ عنہ اور ان کے اصحاب کا واقعہ شہادت اور مسلمانوں کے لئے دعوت و فکروعمل
⬅️حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے فضائل
⬅️دشمنان امیر معاویہ کا علمی محاسبہ
⬅️حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے حق میں اہل بیت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا فیصلہ
⬅️حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے ظاہری اختلاف سے اگاہی
⬅️سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ پر اعتراضات کی حقیقت
⬅️صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے آپس میں تعلقات ، باہمی محبت اور رشتہ داریاں ❤️❤️❤️
اللہ ہمیں حق بات سننے، پڑھنے اور عمل کرنے کے ساتھ ساتھ حق بات کہنے کی توفیق عطا فرمائے۔
آمین ثمہ آمین