iqra taleemul quraan

Click here to edit subtitle

if you want education of quraan and islam pleas lets go our website and contect for proper learning

welcome in my free website tabligh haq i hop you like my website .thankyou

عائلی زندگی کی اہمیت

سوال ۱ : عائلی زندگی سے کیامرادہے؟

جواب: عائلی زندگی سے مراد خاندانی زندگی ہے ۔میاں بیوی کا مل جل کر رہنا عائلی زندگی کہلاتاہے۔ انسان پیدائش سے موت تک ساری زندگی اپنے خاندان میں گزارتاہے ۔ خاندان کے افرادمختلف رشتوں کی بناء پر ایک دوسرے سے منسلک ہوتے ہیں ۔ اسلام نے انسانی معاشرے میں ایک مضبوط خاندانی نظام کے قیام کو بڑی اہمیت دی ہے کیونکہ زوجین (میاں بیوی) خاندان کے دو اہم ستون ہیں۔

سوال ۲ : خاندانی نظام کی اہمیت پر نو ٹ لکھیئے۔عائلی زندگی کا مفہوم اور اس کی اہمیت بیان کریں ۔

جواب: خاندانی نظام عائلی زندگی :انسان پیدائش سے موت تک ساری زندگی اپنے خاندان میں گزارتاہے ۔ خاندان کے افرادمختلف رشتوں کی بناء پر ایک دوسرے سے منسلک ہوتے ہیں ۔انسانی تمدن کی ابتداء خاندانی نظام سے ہوئی ،گویا خاندان معاشرے کا بنیادی جزو ہے معاشرے کے اثرات خاندان پر مرتب ہوتے ہیں ۔معاشرے کی بنیاد خاندانی نظام اور مردوعورت کی پاکیزہ عائلی زندگی پر ہے ۔اس پاکیزہ زندگی کے متاثر ہونے سے پیچیدگیاں پیدا ہونے کے ساتھ ایچ آئی وی /ایڈزجیسے مہلک امراض پیدا ہوتے ہیں ۔خاندانی نظام کی اہمیت درج ذیل امور سے واضح ہوتی ہے۔عائلی زندگی کی بنیاد :معاشرے کی بنیاد خاندانی نظام اور مردوعورت کی پاکیزہ عائلی زندگی پر ہے۔اسلام نے اللہ کی قائم کی ہوئی حدود پر سختی سے عمل کرنے کی ہدایت کی ہے ۔اس پر عمل نہ کرنے کی صورت میں معاشرہ انتشار سے نہیں بچ سکتا ۔

عائلی زندگی کا مقصد :نسل انسانی کی بقا اوراس کی افزائش اللہ تعالیٰ کے نزدیک خاندانی زندگی کا مقصدہے

عائلی زندگی کے فائدے : (۱) پاکیزہ زندگی کاواحد راستہ اور جائز بنیاد عقد نکاح ہے ۔ قرآن نے ،رشتہ ازدواج کو ،احصان ،کا نام دیا ہے ۔جس کا مطلب ہے قلعہ بند ہو کر محفوظ ہو جانا ۔نکاح غیر اخلاقی حملوں سے بچاؤ کے لیے ایک مضبوط دیوار اورحصار بن جاتا ہے۔(۲) زوجین ہر حالت میں مشکلات اور مسائل کےحل میں بے لوث ایک دوسرے کے مددگار ہوتے ہیں ۔(۳)صلاحیتوں میں ترقی اوران کے استعمال میں لانے سےآسانیاں پیدا ہوتی ہیں ۔(۴)جب گھر میں پھول جیسے بچے پیدا ہوتے ہیں تووالدین میں باہمی محبت و احترام بڑھ جاتا ہے تعلق مضبوط ہوجاتا ہے اور گھرواقعی ایک جنت نظر آتا ہے ۔

سوال ۳ : زوجین کے ایک دوسرے پرکیاحقوق ہیں؟

جواب: زوجین کے حقوق سے مرادوہ حقوق ہیں جو شوہر اور بیوی دونوں پر ایک دوسرے کے لیے لازم ہیں ایک کے حقوق دوسرے کے فرائض ہیں اللہ کا فرمان ہے ،رواج کے مطابق عورتوں کے لیے مردوں کی طرح حقوق ہیں ۔

بیوی کے حقوق یا خاوند کے فرائض: بیوی کے حقوق یا خاوند کے فرائض حسب ذیل ہیں۔

(۱)نفقہ وسکنی(خرچہ اوررہائش) : اسلامی تعلیمات کے مطابق خاندان کی کفالت (نان ونفقہ ) مرد کی ذمہ داری ہے ۔اسے چاہیے کہ اپنی مالی حالت کے مطابق بیوی بچوں کے کے لیے اخراجات ،لباس ،اور مکان کا بندوبست کرے ۔

(۲)حق مہر کی ادائیگی: حق مہر کی ادائیگی لازمی ہے ، بیوی کو اپنے مہر میں دی گئی رقم یا دیگر اپنی ذاتی ملکیت رکھنےاور کاروبار کرنے کاجائز حدود میں اختیار دے (۳)حسن سلوک : بیوی کا سب سے پہلا حق یہ ہے کہ خاوند اس کے ساتھ اچھے طریقے سے پیش آئے ۔حضورﷺ نے بیوی سے اچھا سلوک کرنے کے بارے میں فرمایا’’ تم میں سب سے بہتر وہ شخص ہے جو اپنے گھر والوں کے لیے بہتر ہےاور میں اپنے گھر والوں کے لیے سب سے بہترہوں ۔

(۴) عدل واحسان :بیوی پر ظلم وزیادتی نہ کرے اس معاملے میں اللہ تعالیٰ سے ڈرے اور عدل واحسان کا رویہ اختیار کرے ۔

(۵) وراثت کے حقوق : وراثت کے حقوق شریعت کےمطابق ادا کرے ۔

خاوند کے حقوق یا بیوی کے فرائض: خاوند کے حقوق یا بیوی کے فرائض حسب ذیل ہیں

(۱)اطاعت وفرماں برداری:’’ پس نیک عورتیں اطاعت گزار ہوتی ہیں اور مردوں کی عدم موجودگی میں گھر کی حفاظت کرتی ہیں (النساء ۳۴)

(۲)شوہر کے مال اور اپنی آبروکی حفاظت:

بیوی کا فرض ہے کہ خاوندکی عدم موجودگی میں خاوند کےاموال واشیا کے ساتھ ساتھ اس کی آبرواور اس کے نسب ونسل کی بھی حفاظت کرے۔ حضور ﷺ نے فرمایا ’ اچھی بیوی وہ ہےجب شوہر اسے دیکھے تواسے مسرت ہو ۔وہ اسے حکم دے تو اطاعت کرےاور اس کی عدم موجودگی میں اس کے مال کی اور اپنی حفاظت کرے ۔ (۳)شوہر کے راز افشا نہ کرے ،گھر کی باتیں دوسروں کو نہ بتائے ۔ (۴)قناعت وشکرگزاری: حضورﷺ نے فرمایا’’ تم کبھی اپنے خاوند سے نہ خوش نہ ہو اورکبھی ناشکری نہ کرو ،ناشکری کرنے والی عورتیں دوزخ میں جائیں گی‘‘(۵)شوہر کی تعظیم: شوہر کی محبت اورعظمت کی وجہ سے بیوی کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے خاوند کی عزت کرے ۔(۶)خاوند کے راحت وسکون کا خیال: عورت کا فرض ہے کہ اپنے خاوند کے راحت وسکون کا خیال رکھے۔

سوال ۴: اولاد کے حقوق وفرائض بیان کریں۔

جواب: اولادکے حقوق یا والدین کے فرائض: (۱) اولاد کی پرورش کرنا(۲) تعلیم وتربیت احسن طریقے سے کرنا (۳) اولاد کے درمیان عدل وانصاف قائم رکھیں (۴) اچھا نام رکھنا (۵) اچھی جگہ ان کی شادی کرنا ۔

پرورش کرنا: اولاد کی پیدائش کے بعد سب سے اہم فریضہ والدین پر اپنی اولادکی پرورش کرناہے ۔ ماں کافرض جب تک بچہ کھانے پینے کے قابل نہ ہوجائے اس کی خبر گیری کریں۔اچھی تعلیم وتربیت:جسمانی پرورش کے بعد والدین پر سب سے اہم فریضہ اولاد کی روحانی پرورش ہے قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ ارشادفرماتے ہیں ۔۔اے اہل ایمان ! اپنے آپ کو اوراپنے اہل وعیال کو آگ سے بچاؤ جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہیں‘‘ ۔اولادکے درمیان عدل و انصاف: اولاد کے درمیان عدل وانصاف قائم رکھنا بہت ضروری ہے۔ بعض اوقات عدل ومساوات کو قائم نہ رکھنا بچوں کے درمیان دشمنی اور والدین کے ساتھ نفرت کا سبب بن جاتاہے اس وجہ سے گھرکاامن وسکون تباہ وبربادہوجاتاہے۔اچھا نام رکھنا :آپ ﷺ نے اپنے بچوں کا اچھا نام رکھنے کا حکم دیاہے۔

نکاح:والدین پر فرض ہے کہ جب بچہ جوان ہوجائے تواس کے نکاح کا انتظام کرے ۔ حضورﷺ نے فرمایا’’ جب اولاد بالغ ہوجائے تواسکی شادی کرنی چاہیے‘‘

اولاد کے فرائض یا والدین کے حقوق:

قرآن کریم میں ارشاد ہے ۔’’ ان کو(والدین )اُف تک بھی نہ کہو اورنہ جھڑکو بلکہ ادب ونرمی سے گفتگو کرو‘‘ ان دونوں کے سامنے عجزو انکساری سے ادب کاپہلو جھکائے رکھو ۔ اے رب! میرے والدین پر رحم کرجیسا انہوں نے بچپن میں میری پرورش کی(بنی اسرائیل ) والدین کے حقوق درج ذیل ہیں

(۱) اللہ کی نافرمانی کے سوا والدین کا ہر حکم بجالائیں (۲) والدین سے رحمت و محبت اور نرمی کا رویہ اختیار کرنا خاص طور پر جب والدین بڑھاپے کو پہنچ جائیں (۳) والدین کی رائے کو اپنی رائے پر مقدم رکھنا ۔ (۴) اپنی مصروفیات سے والدین کے لیے مناسب وقت خاص کرنا ۔(۵) زندگی میں ان کے لیے رحم کی دعا کرنا اور وفات کے بعد مغفرت کی دعا کرنا ۔

سوال : عائلی زندگی کسے کہتے ہیں ؟ جواب : عائلی زندگی سے مراد خاندانی زندگی ہے ۔میاں بیوی کا مل جل کر رہنا عائلی زندگی کہلاتاہے۔

سوال : اللہ تعالیٰ کے نزدیک عائلی زندگی کیا مقصد ہے ؟

جواب : نسل انسانی کی بقا اوراس کی افزائش اللہ تعالیٰ کے نزدیک خاندانی زندگی کا مقصدہے اور اس پاکیزہ زندگی کاواحد راستہ اور جائز بنیاد عقد نکاح ہے ۔

سوال : معاشرے کے دو اہم ستون کون کون سے ہیں ۔ جواب : زوجین (میاں بیوی) خاندان کے دو اہم ستون ہیں۔

سوال : قرآن پاک میں نیک عورتوں کی کیا صفات بیان کی گئی ہیں ؟ سوال : حفاظت اہل خانہ کے متعلق کسی ایک آیت کا ترجمہ کریں ۔

جواب : پس نیک عورتیں اطاعت گزار ہوتی ہیں اور مردوں کی عدم موجودگی میں گھر کی حفاظت کرتی ہیں (النساء ۳۴)

سوال : قرآن پاک میں رشتہ ازدواج کو کیا نام دیا گیا ہے ؟ سوال : قرآن مجید نے رشتہ ازدوا ج کو احصان کیوں قرار دیا ؟

جواب : قرآن نے ،رشتہ ازدواج کو ،احصان ،کا نام دیا ہے ۔جس کا مطلب ہے قلعہ بند ہو کر محفوظ ہو جانا ۔نکاح غیر اخلاقی حملوں سے بچاؤ کے لیے ایک مضبوط دیوار اورحصار بن جاتا ہے۔

سوال : شوہر کے چار فرائض لکھیں ۔شوہر کے دو فرائض لکھیں ۔

جواب : (۱)نفقہ وسکنی(خرچہ اوررہائش) (۲)حق مہر کی ادائیگی۔ (۳)حسن سلوک ۔ (۴) عدل واحسان ۔ (۵) وراثت کے حقوق

سوال : بیو یوں کے فرائض بیا ن کریں ۔ جواب : (۱)اطاعت وفرماں برداری۔(۲)شوہر کے مال اور اپنی آبروکی حفاظت (۳)شوہر کے راز افشا نہ کرنا ،گھر کی باتیں دوسروں کو نہ بتانا ۔

سوال : اہل خانہ سے حسن وسلوک سے متعلق حدیث کا ترجمہ کریں ۔ خیرکم خیرکم لاھلہ وانا خیرکم لاھلی کا ترجمہ کریں ۔ عورتوں کے حقوق کے بارے میں آپ ﷺ کا فرمان لکھیں ۔

جواب : آپ ﷺ کا ارشاد ہے ۔تم میں سب سے بہتر وہ شخص ہے جو اپنے گھر والوں کے لیے بہتر ہےاور میں اپنے گھر والوں کے لیے سب سے بہترہوں ۔

سوال : والدین پر اولاد کے کیا حقوق ہیں ؟اولاد کے دو حقوق لکھیں ؟

جواب : اولادکے حقوق یا والدین کے فرائض: (۱) اولاد کی پرورش کرنا (۲) تعلیم وتربیت احسن طریقے سے کرنا (۳) اولاد کے درمیان عدل وانصاف قائم رکھنا

(۴) اچھا نام رکھنا (۵) اچھی جگہ ان کی شادی کرنا ۔

سوال : شوہر کے چار فرائض لکھیں ۔شوہر کے دو فرائض لکھیں ۔

جواب : (۱)نفقہ وسکنی(خرچہ اوررہائش) (۲)حق مہر کی ادائیگی۔ (۳)حسن سلوک ۔ (۴) عدل واحسان ۔ (۵) وراثت کے حقوق ۔ t